Bay khud kiye detay hain andaaz e hijabana

bismillah-islamic-hd-wallpaper-520x245

Bay khud kiye detay hain andaaz e hijabana
Aa dil mein tujhay rakh loon aie jalwa e janana

Kyun aankh milayi thi, kyun aag lagayi thi
Ab rukh ko chupa baithay  ker kay mujhay deewana

Jee chahata hai touhfay mein behjoun main unhein aakhein
Kay darshan ka to darshan ho, nazranay ka nazrana

Kyun aankh milayee thi  kyoon aag lagayee thi
Ab rukh ko chupa baitha kar key mujhay dewana

Peenay ko to pee loun ga per arz zara si hai
Kay ajmer ka saaqi ho  baghdad ka maikhana

Bedam meri kismat mein sajday hain usi ghar kay
Chota hai na choutay ga sang e dar e janana

Aa dil main tujhe rakh loun….
Naat Khawan: Owais Raza Qadri

 

Kaabe ke rawnaq Kaabe ka manzar

green_background_islamic_religious_wallpaper-1-520x245

Kaabe ke rawnaq Kaabe ka manzar
Allahu Akbar Allahu Akbar
Dekhon tu dekhe jaon barabar
Allahu Akbar Allahu Akbar

Hamd-e-Khuda say tar hein zubaane
kaano mein russ gholtee hein Azaane
Bas ik sadaa aarahi he baraabar

Tere haram ki kya baat Mawla
tere karam ki kya baat Mawla
Ta umar karde aana muqaddar

Maangi hein mein ne jitnee duae
manzoor hongi maqbool hongi
Meezab-e-Rehmat he mere sar par

Yaad agaye jab apni khataye
ashkon mein dhalne lagee iltijaye
Roya ghilaaf-e-Kaaba pakar kar

Bheja he Jannat se tujhko Khuda ne
chuuma he tujhko khud Mustafa ne
Ay sung-e-Aswad tera muqqadar

Mawla sabhi aur kya chahta he
bas maghfirat ki ataa chahta he
Bakhshish ke talib pe apna karam kar

witter Sabhi Rehmai

3-1

یہ اللہ تعالی کی عادت ( سنت) ہے کہ جب وہ کسی کو اپنا پیغمبر بنا کر بھیجتا ہے اور اس پر اپنا کلام نازل فرماتا ہے تو لوگوں پر اس کا کلام اللہ ثابت کرنے کیلئے اس میں آئندہ پیش آنے والے واقعات کی کچھ پیشگی خبریں دی جاتی ہے. اگرچہ پیشن گوئیاں نجومیوں کی طرف سے بھی کی جاتی ہیں لیکن اول تو وہ یقینی نہیں ہوتیں۔ چنانچہ بڑے سے بڑا نجومی کبھی یہ دعوی نہیں کر سکا کہ اس کی ہر پیشن گوئی درست نکلی ہے اور کبھی کوئی غلطی نہیں ہوئی _
دوسرے اللہ تعالی کی سنت یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص دعوی نبوت کے ساتھ جھوٹی پیشن گوئی کرتا ہے تو سے پورا نہیں ہونے دیا جاتا ۔ قران کریم نے کلام اللہ کے ساتھ بیسوں پیشگی خبریں دی ہیں _ اور وہ سب کی سب بلا استشناء صحیح ثابت ہوئیں جس کا انکار اسلام کا بڑے سے بڑا دشمن بھی نہیں کر سکا یہاں ان تمام پیشگی خبروں کو بالتفصیل بیان کرنا تو ممکن نہیں لیکن چند اہم خبریں مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہیں ۔

رومیوں کی فتح
جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم بعثت کے بعد مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے اور مشرکین مکہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو طرح طرح کی اذیتیں دی جارہی تھیں ٹھیک اسی وقت دنیا کے دو عظیم طاقتوں روم اور ایران کے درمیان شدید جنگ برپا تھی _ اسی جنگ میں ایرانی فوجیں مسلسل رومیوں پر غالب آتی رہی تھیں _ !
رومیوں کے پاؤں ہر جگہ سے اکھڑ رہے تھے اور ایرانی لشکر شام کے بڑے بڑے شہروں کو تخت وتاراج کرتا ہوا طوفانی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا _ رومی حکومت پے در پے ناکامیوں، ٍٍ متواتر شکست اور جان ومال کے بے پناہ نقصان کے باعث اس قدر نڈھال ہو چکی تھی کہ اس کا کسی مقام پر قدم جمانا ہی مشکل تھا چہ جائیکہ وہ پلٹ کر کوئی حملہ کر سکے یہ صورت حال کفار مکہ کیلئے باعث مسرت تھی کیونکہ وہ ایران کو آتش پرست ہونے کی بنا پر اپنے مشابہ اور روم کو اہل کتاب ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے مشابہ سمجھتے تھے ۔ اور ایرانیوں کا غلبہ ان کے نزدیک اپنی فتح اور مسلمانوں کی شکست کا شگون تھا۔ ان حالات میں سورہ روم کی یہ ابتدائی آیات نازل ہوئی
الم ﴿۱غُلِبَتِ الرُّومُ ﴿۲فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ﴿۳فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ﴿۴بِنَصْرِ اللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ﴿۵
وَعْدَ اللَّهِ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿۶
ترجمہ”الم۔ روم ( والے) قریب ترین زمین یعنی (اردن میں ) میں مغلوب ہوگئے اور وہ اس مغلوبیت کے بعد چند ہی سالوں میں غالب آجائیں گے ۔ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے کام پہلے بھی اور بعد بھی _ اور اس روز مسلمان اللہ کی مدد کی وجہ سے خوش ہوں گے اللہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ زبردست اور مہربان ہے اور یہ اللہ کا وعدہ ہے . اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے “۔
جو لوگ روم اور ایران کی جنگی حالات سے باخبر تھے ان کیلئے یہ پیشن گوئی قطعی طور پر ناقابل یقین تھی چنانچہ قریش کے ایک ممتاز سردار ( ابی بن خلف) نے ابو بکر رضی اللہ سے شرط لگا لی کہ اگر تین سال کے دوران رومی غالب آگئے تو میں تمھیں دس اونٹ دوں گا اور اگر غالب نا آسکے تو تم مجھے دس اونٹ دوگے ۔اس وقت اس طرح کی شرط جائز تھی اس لئے ابوبکر رضی اللہ نے شرط قبول فرما لیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اسکی اطلاع کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قران نے ” بعض سنین’ (چند سالوں میں ) فرمایا ہے اور عربی میں لفظ (بضع) کا اطلاق تین سال سے لیکر نو سال تک ہوتا ہے لہذا تم ابی بن حلف سے اونٹوں کی تعداد بڑھا کر شرط کی مدت نو سال تک مقرر کر لو چنانچہ ابو بکر رضی اللہ نے ابی بن حلف سے نو سال کی مدت مقرر کرکے سو اونٹوں کی شرط لگا لی اگرچہ اس پیشنگوئی کے وقت اسکےپوری ہونے کی کوئی آثار نا تھی ۔ بلکہ اس کے بعد بھی ایرانی فوج آگے ہی بڑھتی چلی گئیں یہاں تک کہ رومیوں کی دارلحکومت قسطنطنیہ کی دیواروں تک جا پہنچیں _ مشہور مورخ ایڈورڈ گبن اس پیشنگوئی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں _ !
اس وقت جب یہ پیشنگوئی کی گئی کوئی بھی پیشگی خبر اتنی بعید از قیاس نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ ہرقل کے ابتدائی بارہ سال رومی شہنشاہیت کے خاتمے کا اعلان کر رہی تھی (سقوط زوال سلطنت روما ج 5 ص73 و 74)
لیکن اپنی پہلی شکست کے ٹھیک سات سال بعد قیصر روم بلکل خلاف توقع قسطنطنیہ سے باہر نکلا اور اسکی فوجوں نے ایرانیوں پر پے درپے خملے کرکے انہیں متعدد مقامات پر شکست فاش دی اور اس کے بعد رومی لشکر ہر جگہ غالب ہی آتا چلا گیا _
ادھر اس عرصے میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہجرت کرکے مدینہ طیبہ جاچکی تھی اور کفار مکہ کیساتھ ان کی جنگیں شروع ہوگئی تھیں ۔ اور جس وقت بدر کے میدان میں تین سو تیرہ نہتے مسلمان ایک ہزار مسلح سورماؤں کا منہ پھیر رہے تھے ٹھیک اس وقت یہ خبر ملی کہ رومیوں نے اہل ایران کو شکست دے دی ہے _ اسی وقت یہ واضح ہوا کہ قران کریم نے رومیوں کی فتح کی خبر دینے کے ساتھ جو فرمایا تھا کہ
وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ (4) بِنَصْرِ اللَّهِ ( اس روز مسلمان اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے )
اس سے مسلمانوں کی دوہری خوشی کی طرف اشارہ تھا ۔ ایک رومیوں کی فتح کی اور دوسری بدر کے میدان میں خود اپنی فتح کی۔

فتح مکہ کی خبر :
جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر ہجرت کے ارادے سے مکہ مکرمہ سے نکلے ۔ اور غارثور میں تین روز قیام کے بعد مدینہ طیبہ کے راستے پر جحفہ پہنچے تو وہاں سے مکہ مکرمہ جانے والی سڑک نظر آئی اور طبعی طور سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو وطن کی یاد آئی اور اسے مستقلا چھوڑ دینے کے خیال سے افسوس ہوا اس موقع پر قران کریم کی یہ آیت نازل ہوئی __!
إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ ( بلاشبہ جس ذات نے قران (کے احکام) آپ صلعم پر فرض ئے ہیں وہ آپ صلعم کو دوبارہ لوٹائے گا )
اس وقت آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جس بےسروسامانی کے عالم میں مکہ مکرمہ سے نکلے تھے اس کے پیش نظر ظاہری اعتبار سے اس پیشنگوئی کے پورا ہونے کی کوئی توقع نہ تھی لیکن چند ہی سال میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم شہر مکہ میں فاتح کے حیثیت سے داخل ہوئے اور یہ پیشنگوئی پوری ہوکر رہی __!

یہودیوں کی تمنائے موت “:
آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں یہودی کہا کرتے تھے کہ آخرت کی فلاح وکامیابی صرف یہودیوں کا مقدر ہے اور ہم ضرور جنت میں جائیں گے اس کے جواب میں قران کریم نے ارشاد فرمایا _!
قُلْ إِن كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِندَ اللَّهِ خَالِصَةً مِّن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ (94) وَلَن يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ (95)
” آپ صلعم فرما دیجئے (اے۔یہودیوں) اگر اللہ کے پاس صرف تمھارے لئے خالص طور پر دار آخرت ہے دوسروں لوگوں کیلئے نہیں تو تم موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو ‘ یہ لوگ اپنے کرتوت کیوجہ سے ہرگز موت کی تمنا نہیں کریں گے اور اللہ تعالی ظالموں کو خوب جانتا ہے ”
یہ چیلنج اور پیشنگوئی مدینہ طیبہ کے اس ماحول میں کی جا ہی ہے جہاں یہودیوں کی بستیاں کی بستیاں آباد ہیں اور مسلمانوں کو دن رات ان سے بحث ومناظرہ کا اتفاق پیش آتا رہتا ہے ۔ اگر یہ چیلنج بذریعہ وحی نہ دیا گیا ہوتا تو جو یہودی آپ کی تکذیب کا کوئی موقع فرد گذاشت کرنے کیلئے تیار نہ تھے ۔ وہ بڑی آسانی سے علی الاعلان موت کی تمنا کرکے دکھا سکتے تھے ۔ اور اس طرح جو مناظرے شب وروز جاری تھے ان کا فیصلہ ایک ہی لمحے میں ہو سکتا تھا لیکن اس آیت کی نزول کے بعد یہودیوں کو سانپ سونگھ گیا ۔ اور کوئی ایک متنفس بھی اس چیلنج کو پورا کرنے کیلئے آگے نہیں بڑھا ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نیوت و رسالت کے بارے میں غیر مسلموں کا نظریہ خواہ کچھ ہو لیکن اس بات سے آپ کے کسی دشمن نے بھی انکار نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم عقل وحکمت تدبر اور فہم وفراست کے اعتبار سے بلند ترین مقام کے حامل تھے اب یہ بات ایک معمولی سمجھ کے انسان سے بھی متوقع نہیں کہ وہ پورے یقین و اعتماد کے بغیر ایک ایسا چیلنج یا ایسی پیشنگوئی کر گزرے جسے اس کے مخالفین ایک لمحے میں توڑ سکتے ہوں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جیسے عاقل حکیم اور مدبر کی طرف سے یہ چیلنج وحی الہی کے رہمنائی کے بغیر ممکن ہی نہ تھا۔

قران کریم کی حفاظت:
قران کریم سے پہلے جو آسمانی کتابیں مختلف انبیاء علیہ السلام پر نازل ہوئیں ‘ ان کی حفاظت کا کوئی وعدہ اللہ تعالی کی طرف سے نہیں کیا گیا تھا چنانچہ وہ اپنی اصلی شکل میں محفوظ نہ رہ سکیں ۔ خود اہل کتاب بھی اس حقیقت کے اعتراف پر مجبور ہیں اور کوئی کٹر سے کٹر عیسائی یا یہودی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ ان کتابوں میں ہر لفظ الہامی ہے اور ان میں کہیں کوئی غلطی یا تبدیلی نہیں ہوئی ۔ اس کے برخلاف قران کریم نے اپنے بارے میں یہ پیشگی خبر دیدی تھی کہ
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ( ہم نے اسی قران کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں )
چنانچہ یہ وعدہ حرف با خرف صحیح ثابت ہوا ۔ اور چودہ سو سال کے اس طویل عرصے میں قران کریم کا ایک نقطہ ایک شوشہ تک ضائع نہیں ہوسکا ۔ اور نہ اس میں تحریف و ترمیم کی کوئی کوشش کامیاب ہوسکی ۔ اسلام ہمیشہ مخالفتوں اور عداوتوں کے نرغے میں رہا ہے اور اس کے دشمنوں نے اس کو مغلوب کرنے کی کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی لیکن کوئی دشمن قران کریم کو اس دور میں مٹانے ،ضائع کرنے یا بدلنے میں کامیاب نہ ہوسکا جبکہ قران کریم کے نسخے نہایت محدود تھے اور نشر و اشاعت کے وسائل نایاب۔ تورات کو دیکھئے کہ کس طرح بابل کا بادشاہ بخت نصر اٹھتا ہے اور بنی اسرائیل کے روایات کے مطابق سوائے حضرت عزیر علیہ السلام کے کسی شخص کو تورات یاد نہیں تھی ۔ اس لئے تمام نسخے ضائع ہوجانے کے بعد انہوں نے اپنے حافظے سے اسے دوبارہ لکھوایا ۔ یا پھر روم کا بادشاہ انیتوکس ایپی پانیس اٹھتا ہے اور خود بنی اسرائیل کی روایات کے مطابق تورات کا ایک ایک نسخہ پھاڑ جلا دیتا ہے یہاں تک کہ کوئی نسخہ باقی نہیں رہتا ،( دیکھیئے انسائیکلو پیڈیا ‘برٹانیکا ٥٠١ج٣3 مطبوعہ ١٩٥٠ مقالہ ‘ بائبل بحث عہد قدیم ۔ فہرست مسلمہ بحوالہ ۔ السیڈریس دوم ١٤ ۔١٩ تا ٤٨
نمبر٢ دیکھیئے بائبل ناکس ورژن میکملن۔ لندن ١٩٦٣ ء مکابیوں کی پہلی کتاب ۔ ١: ٥٩’)
اسی طرح انجیل کو دیکھئے کہ کس طرح طیطوس رومی ‘شاہ نیرون’ڈومیشین اور ڈیو کلیشین کے حملوں میں اس کے اصل نسخےنابود ہوجاتے ہیں لیکن قران کریم کا حال یہ ہے کہ اسکے سینکڑوں حملہ آوروں سے سابقہ پڑتا ہے بہت سے مواقع پر مسلمانوں کا قتل عام ہوتا ہے ان کے کتب خانے جلائے جاتے ہیں قدیم کتابوں کے کے بڑے بڑے ذخیرے دریا میں بہا دیے جاتے ہیں قرامطہ کا سیلاب عظیم پورے عالم اسلام پر ٹوٹتا ہے اور قران کریم کی تحریف کی کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا ۔ لیکن یہ کتاب مبین اللہ کے وعدے کے مطابق کسی ادنی تغیر کے بغیر نا صرف محفوظ رہتی ہے بلکہ مشرق و مغرب میں اسکی نشر واشاعت کی رفتار بڑھتی ہی چلی جاتی ہے ۔ آج بھی بالفرض (خدانخواستہ) قران کریم کے تمام مکتوب نسخے ناپید ہوجائیں تو لاکھوں فرزندان توحید کے سینے اسکے سچے امانت دار ہے اور اگر کوئی شخص قران کریم کا کوئی لفظ بھی تبدیل کرنا چاہے تو مسلمانوں کے کمسن بچے اس کو پکڑ سکتے ہیں ۔

پھر قران کریم کے صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ معانی کی حفاظت کا جو انتظام اللہ تعالی کیطرف سے کیا گیا ہے وہ خود ایک مستقل تاریخ ہے ۔ مثلا مرورایام سے ہر زبان کے الفاظ میں معانی کے اعتبار سے فرق واقع ہوتا رہتا ہے ۔ چنانچہ عبرانی ، سریانی اور کلدانی زبانیں جن میں پچھلی آسمانی کتابیں نازل ہوئی تھیں، رفتہ رفتہ دنیا سے ناپید ہوگئیں یا ان ایسا عظیم تغیر واقع ہوگیا کہ وہ بالکل نئی زبانیں بن گئیں ۔ لیکن قران کی زبان کو اللہ تعالی نے یہ شرف بخشا ہے کہ وہ ہزارہا تغیرات و انقلابات کے باوجود پوری طرح محفوظ ہے اور اگر کوئی شخص یہ معلوم کرنا چاہے کہ قران کریم کا فلاں لفظ اس دور میں کون سی معنی میں استعمال ہوتا تھا تو وہ نہایت آسانی سے معلوم کر سکتا ہے ۔
عربی زبان کو کسی غیر معمولی طریقے پر محفوظ رکھا گیا ہے اس کا ایک معمولی سا اندازہ اس واقعے سے ہوگا کہ یمن کے شہر زرائب کے اوپر عکاد نامی دو پہاڑ تھے ان پہاڑوں کے رہنے والوں نے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ وہ اپنی بستی سے باہر کسی بھی شخص سے نہ شادی بیاہ کا تعلق قائم کریں گے نہ دوستی کا ،نا خود کہیں باہر جائیں گے یہاں تک کہ باہر کا کوئی آدمی ان کے یہاں تین دن سے زیادہ قیام بھی نہیں کر سکتا تھا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اگر باہر کے لوگوں سے ہمارا میل جول بڑھا تو ہماری عربی زبان بگڑ جائی گی یہ لوگ اپنے ان اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہے اور مورخین نے لکھا ہے کہ یہ وہ واحد گروہ ہے جسکی عربی زبان ٹھیٹھ زمانہ جاہلیت کی زبان ہے اور اس میں سرمو فرق نہیں آیا __!
خلاصہ یہ کہ قران کریم نے جو وعدہ فرمایا تھا کہ اللہ کی یہ کتاب ہمیشہ محفوظ رہے گی ‘ اور خود اللہ اسکی حفاظت کرے گا ‘ اسکی صداقت روز بروز روشن ہوتی چلی جاتی ہے ‘ اور یہ پیشگی خبر سو فیصد درست ثابت ہوئی ہے _!
یہاں قران کریم کی تمام پیشگی خبروں کا استیعاب کرنا نہیں ‘ بلکہ صرف چند مثالیں پیش کرنا مقصود تھا اور ان چند مثالوں کی ہی سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ قران کریم نے جو پیشگی خبریں دی تھیں وہ ایسے معجزانہ طریقے سے پوری ہوئی ہیں جس میں کسی انسانی کوشش کا کوئی دخل نہیں ۔

(  کتاب علوم القرآن سے انتخاب  )

کیا واقعی جدید سائنس منکرِخدا ہوسکتی ہے؟

green_background_islamic_religious_wallpaper-1-520x245

لحاد،سائنس اور خالق: Science, Atheism & Creator
دہریت درحقیقت کسی مضطرب ذہن کی ہٹ دھرمی اور ضد ہے ۔ جدید دور کے بڑے سائنسدان بھی الحاد کی قطار میں فکری شش و پنج کی وجہ سے ہیں۔ خدا سے انکار کسی بھی شخص کا ذاتی نظریہ ہی ہوتا ہے مگرجب کوئی عالم یا ماہر طبعیات اپنی علمی حیثیت میں اس کا اظہار کرتا ہے تو ایک تاثّر یہ بنتا ہے کہ اس کا علم بھی اس کی تائید کرتا ہوگا۔ یہ بات قابل ِذکر ہے کہ سائنس کا دائرہ کار میٹا فزکس نہیں ہے لیکن پھر بھی جدید اسکالر خدا کو بھی طبعی پیرایوں میں تلاش کرتے ہیں۔ جدید دور میں اکثرسائنسدان خدا کے وجود کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں جس کی وجہ سے یہ خیال جڑ پکڑ رہا ہے کہ سائنس خدا کی منکر ہے، اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے لادین طبقہ سائنسی نظریات کا سہارا لے کر لادینیت اور دہریت کی ترویج کرتا ہے اور یہ غلط تاثر پھیلا تا ہے کہ سائنس خدا یا اللہ کی منکر ہے۔
ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا واقعی جدید سائنس منکر ِ خدا ہو سکتی ہے؟
جدید سائنسدانوں اور اسکالرز کا نقطہ نظر یہ ہے کہ آپ جو چاہے نظریہ رکھیں مگر اس کے سچّا ہونے کا دعویٰ نہ کریں کیونکہ جو دعویٰ تجربے سے ثابت نہ ہو وہ سائنسی طور پر غلط False ہے۔ یعنی آپ خدا پر یقین رکھتے ہیں تو رکھیں، یہ آپ کا ذاتی مسئلہ ہے لیکن اس کے سچ ہونے پر اصرار نہ کریں کیونکہ سائنس کے نظریات اورتجربات اس کی تائید نہیں کرتے۔ اکثر لادین دوست اپنی تحاریر میں ایسا ہی تاثر دیتے ہیں۔ اس طرح کی دلیل کے حوالے سے پہلے تو یہ تعیّن کرنا ہوگا کہ آیا سائنسی علوم اور ان کے حدود کار کی بنیاد پر یہ دلیل دی بھی جاسکتی ہے یا نہیں۔ سائنس بذات خود کوئی علم نہیں بلکہ طبعی دنیا کے ہر شعبے کے علوم کی عقلی اور تجرباتی بنیاد پر تصدیق ہی سائنس کہلاتی ہے۔ آئیے خدا کے حوالے سے مندرجہ بالا نقطۂ نظر کو عام فہمی یا کامن سینس سے دیکھتے ہیں کہ آیا یہ خود کتنا سائنسی، منطقی اور عقلی ہے۔

سوال یہ ہے کہ: ہم کسی مخصوص شخص کو کیسے پہچانتے ہیں؟
انسان کے دو رخ ہیں؛ ایک طبعی اوردوسرا تصورّاتی، جسمانی رخ کو طبعی طور پر ہم اپنے حواس سے محسوس کر لیتے ہیں جبکہ شخصیت person بمع نام یعنی مسٹر ایکس ایک غیر مرئی abstract ہے جس کو ہمارا شعور جو خود غیر مرئی ہے، ایک تصوّر کی شکل میں قبول کرتا ہے۔ اس طرح ہمارے حواس اور شعور مل کر ایک مخصوص شخص کو پہچانتے ہیں۔ کیا سائنسدان کوئی ایسا طریقہ دریافت کر پائے ہیں جو کسی انسان کی شخصیت کا تعّیّن کر سکے یا اس کا نام بتا سکے؟
یہ بات یقیناً دلچسپ ہے کہ جدید ترین سائنسی تجربات بھی کسی انسان کی شخصیت کی تصدیق نہیں کرسکتے۔ شخصیت کی کھوج میں کسی بھی سائنسی ٹیسٹ یا سائنسی تلاش میں ایک انسان کو محض خلیاتی انبار یا جنّیاتی مجموعہ یا a-bunch-of-molecules یا group-of-DNA ہی بتایا جائےگا۔ انسان کے حوالے سے کوئی بھی میڈیکل ٹیسٹ ایک مطلوبہ معلومات تو دیتا ہے لیکن یہ بتانے سے قاصر ہوتا ہے کہ یہ کس شخص سے متعلّق ہے۔ یہاں پر یہ انسان ہی ہوتا ہے جو رپورٹ پر نام لکھ کر متعلّقہ شخص سے منسوب کرتا ہے۔یعنی مسٹراسٹیون ہاکنگ Stephen-Hawking جو ببانگ دہل ایک بڑے دہریہ سائنسدان ہیں، ان کے اس دعویٰ کی تصدیق کوئی بھی سائنسی تجربہ نہیں کرسکتا کہ وہ اسٹیون ہاکنگ ہیں! ایک اور بڑے خدا کے منکر جناب رچرڈ ڈاکنز Richard-Dawkins چاہے کتنی کوشش کر ڈالیں، ان کی ممدوح سائنس ان کو بحیثیت مسٹر ڈاکنز پہچاننے سے ہمیشہ عاری رہے گی!
سوال یہ ہے کہ:
اگر ان کے بحیثیت ایک خاص انسان (Specific-Person) موجودگی کے دعویٰ کی تصدیق کرنے سے سائنس قاصر ہے تو کیا ان کا وجود نہیں ہے؟
ہر طرح کے سائنسی ٹیسٹ میں یہ دونوں ایک شخصیت کی حیثیت سے معدوم ہیں لیکن حقیقتاً موجود ہیں جس کی تصدیق انسان کے حواس اور شعور کرتے ہیں۔
یہیں پر آ کر جدید سائنس کی حدود کا حقیقی تعیّن ہوتا ہے جو محض طبعی ہیں۔

تخلیق کے مدارج : Phases of The Creation
بنانے یا تخلیق کے تین مدارج ہوتے ہیں، ارادہ، عمل یا تخلیق اور ظہور۔ کسی بھی انسانی ایجاد یا تخلیق کا مطالعہ کریں یہ تین مرحلے لازماً موجود ہوں گے۔
تخیّل یا ارادہ طبعی تخلیقی مراحل یعنی عمل سے گزر کر ہی ایک مکمّل شے کی صورت میں عیاں ہوتا ہے۔

سائنس:
کسی کار کو دیکھ کر ہم اس کے تخلیقی مراحل کو نہیں جان سکتے بلکہ اس کے لیے باقاعدہ تحقیق کی ضرورت ہوگی۔ اس کے پرزے پرزے کو جدا کرکے اور ان کی اندرونی ماہیت کو جان کر ہی ہم اس کی مینو فکچرنگ تکنیک کو سمجھ سکیں گے۔ یہی کاوش سائنس کہلاتی ہے۔ لیکن یہاں یہ واضح رہے کہ اس تمام پیداواری مراحل کے بارے میں سب کچھ جان کر بھی ہم اس کار کے تخلیق کار manufacturer کی شخصیت کو نہیں جان پائیں گے۔ اس کے لیے ایک دوسرا طریق کار اختیار کرنا ہوگا۔ اس طرح واضح ہوا کہ دو باتیں ہوتی ہیں ایک انسانی عمل اور دوسرا اس کا حاصل۔ عمل غیر مرئی اور ناقابل پیمائش ہے اس کی کوئی شکل نہیں ہوتی لیکن اس کا حاصل قابل گرفتِ حواس ہے یعنی انسان کسی عمل کی نہیں بلکہ اس کے نتیجے کی پیمائش کر سکتا ہے۔

عمل اور نتیجہ:
انسان ایک دعویٰ کرتا ہے کہ میرا نام الف ہے تو اس کے اطراف موجود انسان اس کا دعویٰ اس لیے قبول کرتے ہیں کہ انسانی شعور طبعی حواس کی مدد سے اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ انسانوں کا یہ دعویٰ قبول کرنا ہی اس شخص کے بحیثیت الف موجود ہونے کی دلیل بنتا ہے۔ حواس صرف اطّلاعات دیتے ہیں اور انسانی شعور عقل کے تناظر میں فیصلہ کرتا ہے۔ اس طرح یہ واضح ہوا ہے کہ کسی بھی تخلیق کار، جیسے کسی کار کے مینو فیکچرر، یا کسی فن پارے کی تخلیق کرنے والے مصوّر یاکسی ڈرامہ نویس کی کسی بھی جدید سائنسی ٹیسٹ سے تصدیق نہیں ہو سکتی بلکہ صرف اور صرف انسانی شعور ہی اس تصدیق کی قدرت رکھتا ہے یعنی سائنس انسان کی صرف ایک طبعی و حیاتی نظام physical/biological-system کی حیثیت سے ہی تصدیق کرسکتی ہے۔ اب بتائیے کہ جو علوم سامنے موجود انسان کی شخصیت کو نہ پہچان سکیں نہ تصدیق endorse کرسکیں یا ایک تخلیق کے محرّک Initiator کی نشان دہی تک نہ کرسکیں تو ان کا محدود ہونا تو ثابت ہوگیا۔ مزید یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ انسانی شعور ہی ہے جو حاصل کردہ علوم کی بنیاد پر دوسرے انسان کی شخصیت اور اس سے وابستہ کسی عمل کی تصدیق کرتا ہے نہ کہ سائنسی.

علوم!
اب جدیدسائنس کے تجربات کو خدا کی پہچان کے لیے استعمال کرنا کتنا عقلی ہے، خود فیصلہ کرلیجے۔ گویا واضح ہوا کہ سائنس کا دائرہ کار کسی بھی چیز یا تخلیق کو پا کر اس کی تخلیقی ماہیّت، اس کے پیداواری یا ارتقائی مراحل اور منبع origin کو جاننا ہے یعنی تخلیق کے مذکورہ بالا تین میں سے آخر کے دو مراحل، جو عمل اور اس کا نتیجہ یا طبعی اظہار ہیں جبکہ اس سے قبل کا مرحلہ یعنی تخلیق کار Inventor/creator یا ارادے کے مآخذ کی نشاندہی میں صرف انسانی عقل اور موجود معلومات available-information کام آتی ہیں کہ کون ایسی صلاحیّت، علم، قوّت اور وسائل رکھتا ہے کہ یہ کار بنا سکے یا کوئی مخصوص کام کرسکے۔

خدا کی تصدیق:
بالکل اسی طرح انسان حاصل علوم سے اپنی خرد اور دانش سے ہی خالق کائنات یعنی خدا یا اللہ تعالیٰ کے وجود کی تصدیق کرسکتا ہے۔ یہی ایمان کہلاتا ہے اور یہ عقل و شعور سے حقائق کی پرکھ کے بعد بالکل خالص ذاتی فیصلہ ہوتا ہے سائنسی نہیں۔ اسی طرح اللہ کا انکار کسی انسان کا ذاتی فیصلہ ہوتا ہے جو اس کا شعور متعیّن کرتا ہے۔
ایک بات واضح رہے کہ انسان خدا کو خود ہی تلاش نہیں کرتا بلکہ یہ خدا ہے جو کہ انسانوں کا خالق ہونے کا اعلان کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ میں تمہارا خالق ہوں، پھر انسان اپنی عقل و خرد اور علوم کی گواہی سے ہی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ خدا کا دعویٰ اس کی طرف سے انسانی واسطے سے پیغام اور حیرت انگیز تحریر text کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، ایسی تحریر جس کا مصنّف ہونے کا کوئی بھی انسان دعوٰی نہیں کرتا۔

کیا سائنس کسی بھی کتاب کے مصنّف کا نام بتا سکتی ہے؟
سائنسی علوم صرف ایک محدود دائرے میں ہی انسان کی رہنمائی کرسکتے ہیں اور سائنس کے حوالے سے خدا کی تلاش یا اس بارے میں لب کشائی نہ سائنس اور نہ ہی سائنسدانوں کا کام ہے۔ سائنس محض علمی اوزار کا صندوق toolkit ہے ! یعنی سائنسی علوم محض وسائل اور ذریعہ ہیں جو معلومات مہیّا کرتے ہیں اوربس!
تو کسی سائنس دان کا دعویٰ کہ وہ خدا پر یقین نہیں رکھتا اس کا ذاتی خیال ہوتا ہے، اس کا بہ حیثیت مجموعی سائنس کی دریافتوں اور سائنسی ٹیسٹ کے نتائج سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔ اگر کوئی ایسا تاثّر دیتا ہے تو وہ حقائق کے برعکس ہے بلکہ دروغ گوئی ہے، معذرت کے ساتھ۔

سائنسی علوم تمام انسانیت کی میراث ہیں اور کسی بھی انسان کو ان سے فائدہ اٹھانے یا دلیل حاصل کرنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کسی بھی ماہر علم یا ماہر طبعیات کو۔ یہ بھی واضح ہوا کہ جدید سائنسدان کائنات کی ابتدا، تخلیق اور اس کے مراحل کے حوالے سے جتنی بھی تحقیق کریں اور اس کی سائنسی توجیہات پیش کریں، وہ بجا طور پر سائنس کے دائرہ کار میں آتی ہیں لیکن جس لمحے یہ سائنسدان ایک قدم آگے بڑھ کر یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس نے کائنات نہیں بنائی ـ وہیں سے ان کی عقلیں بےراہرو ہو کر سائنس کے حدود کار سے باہر چلی جاتی ہیں۔
مختصراً یہ واضح ہوا کہ جدید ترین سائنسی علوم ، دریافتیں اور سائنسدان جو کسی میڈیکل ٹیسٹ، طبعی تخلیق، آرٹ کے فن پارے اور کسی کتاب سے متعلق انسان کا تعیّن اور تصدیق نہ کر سکیں بھلا وہ کائنات کے خالق یعنی اللہ کی تصدیق کرنے کے اہل کیسے ہوسکتے ہیں؟
ذرا سوچیں!
(خدائی سرگوشیاں اور جدید نظریاتی اشکال سے اقتباس)